سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم کیا گیا، جن کی پالیسیوں نے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچایا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ سات ممالک میں فوجی کارروائیوں میں ملوث رہی اور غزہ میں اسرائیلی آپریشنز میں معاونت کی مرتکب رہی۔

سابق پاکستانی  مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اس بورڈ سے علیحدگی اختیار کرے، جس میں اسے ابتدا ہی میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جس کی پالیسیوں نے خطے کو نقصان پہنچایا۔

دھیان رہے کہ ملیحہ لودھی امریکا اور برطانیہ میں بھی پاکستان کی سفیر رہ چکی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل اور قطر میں امریکی فوجی اڈے پر مربوط حملے کیے ہیں۔

ایرانی فوج کے مطابق زمینی، فضائی اور بحری ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی حملہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکا کے پاس دنیا کے جدید اور بہترین اسلحے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، صدر ٹرمپ

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک الگ رپورٹ میں بحرین میں امریکی فوجی تنصیب پر ایرانی میزائل حملے کی ویڈیو جاری کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے خلیجی خطے میں تنازع کے پھیلنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ادھر ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق ملک بھر میں جاری حملوں کے نتیجے میں 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہفتے سے شروع ہونے والے ان حملوں میں ایران کے 153 شہروں اور 500 سے زائد مقامات کو ایک ہزار سے زائد فضائی اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر سفارتی اور عسکری تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جب کہ پاکستان کے لیے بھی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلوں کا وقت آ پہنچا ہے۔