صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں بریفنگ دی گئی ہے کہ امریکا کے دفاعی ذخائر اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں،امریکا کے میڈیم اور اپر میڈیم اسلحہ ذخائر پہلے کبھی اتنے مضبوط اور مؤثر نہیں رہے جتنے آج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہی ہتھیاروں کی بدولت امریکا کسی بھی طویل جنگ کو کامیابی کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے،امریکا کے پاس نہ صرف روایتی اسلحہ بلکہ اضافی ہائی گریڈ ویپن سسٹمز کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکا کی عسکری طاقت اس کے حریف ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے اور دفاعی تیاری مکمل ہے،ملکی سلامتی اور عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا ہر وقت تیار ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں رجیم چینج کی کوششیں نہ روکی گئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، روس
ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امریکا مختلف خطوں میں اپنی عسکری موجودگی اور دفاعی صلاحیتوں کا اظہار کر رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے بیانات کا مقصد ممکنہ حریف ممالک کو واضح پیغام دینا اور امریکا کی عسکری برتری کو اجاگر کرنا ہے۔
حالیہ بیانات کے بعد عالمی مبصرین اس امر پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ سخت لہجہ سفارتی دباؤ کا حصہ ہے یا کسی بڑی عسکری حکمت عملی کا اشارہ۔







