نوبیل کمیٹی کے سیکریٹری کرسچن برگ ہارپ ویکن سے گفتگو میں مچاڈو نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں، یہ صرف میرا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا کارنامہ ہے۔ میں اکیلی اس کی حقدار نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ میں یہ انعام وینیزویلا کے مظلوم عوام اور صدر ٹرمپ کو ان کی ہمارے مقصد کے لیے فیصلہ کن حمایت پر وقف کرتی ہوں۔
ٹرمپ نے ہمیشہ وینیزویلا کے صدر مادورو پر تنقید کی ہے، جب کہ امریکا ان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے نوبیل کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے سیاست کو امن پر ترجیح دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔
نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ جب آمر اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں تو آزادی کے بہادر محافظوں کو پہچاننا ضروری ہوتا ہے۔
مچاڈو کو گزشتہ سال مارکو روبیو (جو اب امریکی وزیر خارجہ ہیں) نے امریکی اراکینِ کانگریس کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ مچاڈو 10 دسمبر کو اوسلو میں ہونے والی تقریب میں شریک ہو سکیں گی یا نہیں۔ اگر وہ نہ پہنچ سکیں تو وہ ان شخصیات میں شامل ہو جائیں گی جنہیں ماضی میں انعام وصولی سے روکا گیا تھا، جن میں آندرے سخرُوف، لیخ ویلسا اور آنگ سان سوچی شامل ہیں۔
مچاڈو نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی پہلی وینیزویلن شخصیت اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والی چھٹی شخصیت ہیں۔ ان کے تینوں بچے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بیرون ملک مقیم ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مچاڈو کے انعام کو وینیزویلا کے عوام کی "آزاد اور منصفانہ انتخابات کی واضح خواہش" کا اعتراف قرار دیا ہے۔
نوبیل کمیٹی کے سربراہ جورگن واٹنے فریڈنیس نے کہا کہ امید ہے یہ انعام وینیزویلا کی اپوزیشن کو آمریت سے جمہوریت کی جانب پرامن منتقلی کے لیے نئی توانائی دے گا۔
یہ نوبیل امن انعام 2024 میں حاصل کردہ کامیابیوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے اور اس کی مالیت 11 ملین سویڈش کراؤن (تقریباً 12 لاکھ ڈالر) ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کو امن نوبیل پرائز کے لیے منتخب نہ کرنے پر وائٹ ہاؤس کی سخت تنقید
گزشتہ سال کا نوبیل امن انعام جاپانی تنظیم نِہون ہیدانکیو کو دیا گیا تھا جو ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی حملوں کے متاثرین کی نمائندہ تنظیم ہے۔
خیال رہے کہ 58 سالہ مچاڈو، جو ایک انڈسٹریل انجینئر ہیں اور خفیہ مقام پر رہتی ہیں، کو 2024 میں عدالت نے صدارتی الیکشن لڑنے سے روک دیا تھا تاکہ وہ صدر نکولس مادورو کے خلاف انتخاب میں حصہ نہ لے سکیں۔ مادورو 2013 سے اقتدار میں ہیں۔







