وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت وزارت داخلہ کے ذیلی اداروں کے سربراہان کا اہم اجلاس ہوا، جس میں اداروں کی کارکردگی، باہمی رابطوں، انتظامی امور اور مستقبل کے اصلاحاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں دیگر وزارتوں سے مختلف اور غیر معمولی نوعیت کی ہیں، اس لیے اس کے تمام اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے تمام اداروں کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہمارا ہدف ہے، ہر ادارہ مثالی، مؤثر اور عوام دوست ہونا چاہیے۔ شہریوں کو بہترین سہولیات اور معیاری خدمات کی فراہمی کے لیے اداروں کو مقررہ اہداف ہر صورت حاصل کرنا ہوں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے تمام ماتحت اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنایا جائے، وزارت داخلہ کے مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کریں تاکہ فیصلہ سازی اور عملی اقدامات میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
محسن نقوی نے نئے قائم ہونے والے اداروں، خصوصاً لینڈ پورٹ اتھارٹی، کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اداروں کو مطلوبہ وسائل مہیا کیے جائیں گے اور تمام محکمے ایک دوسرے کی بھرپور معاونت کریں
اجلاس میں وزیر داخلہ نے ڈیٹا سیکیورٹی اور سائبر سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ حساس معلومات اور سرکاری ڈیٹا کے تحفظ کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
محسن نقوی نے تمام اداروں کو اپنے اپنے دو سالہ جامع ٹرانسفارمیشن پلان تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی، تاکہ ادارہ جاتی اصلاحات، کارکردگی میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جاسکیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ادارے خودمختار اور بااختیار ہونے چاہئیں اور انہیں اپنے دائرہ اختیار میں فیصلے خود کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملہ وزارت داخلہ کو بھیجنے کی ضرورت نہیں، جہاں اداروں کو مزید اختیارات یا قانونی سہولت درکار ہو وہاں قوانین میں ضروری ترامیم اور اصلاحات کی تجاویز فوری طور پر پیش کی جائیں۔
محسن نقوی نے گزشتہ اور رواں سال حج آپریشن کے دوران منشیات اسمگلنگ کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے کو متعلقہ اداروں کی بہتر کارکردگی کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مسلسل نگرانی، جدید نظام اور باہمی تعاون ضروری ہے، جبکہ مستقبل میں بھی ایسے نتائج برقرار رکھنے کے لیے مزید مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس میں کہا کہ وفاقی اداروں میں ماضی میں کام نہ کرنے کا کلچر موجود تھا، تاہم اب اس سوچ کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو ٹارگٹ بیسڈ، نتیجہ خیز اور کارکردگی پر مبنی نظام کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ ہر ادارے کی کارکردگی کو واضح اہداف کی بنیاد پر جانچا جاسکے۔
اجلاس میں وزارت داخلہ کے مختلف ذیلی اداروں کے سربراہان نے بھی اظہار خیال کیا اور وزارت داخلہ میں جاری اصلاحات کو سراہا، محسن نقوی کی قیادت میں ادارہ جاتی سطح پر بنیادی اور مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔
اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اے این ایف، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی این سی سی اے، ایم ڈی لینڈ پورٹ اتھارٹی، ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن، چیف کمشنر اسلام آباد و آئی جی اسلام آباد پولیس، چیئرمین سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، وفاقی پراسیکیوٹر جنرل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔







