سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور وزارتِ مذہبی امور کی کوشش ہے کہ حج اخراجات کو کم سے کم رکھا جائے اور انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال سعودی عرب میں عازمینِ حج کی رہنمائی کے لیے حج ناظم اسکیم منظور کی گئی تھی، جس کے تحت ہر گروپ کے ساتھ ایک ناظم مقرر کیا گیاتھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حج 2025ء کے دوران رہائش، کھانے پینے، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات میں تقریباً ساڑھے تین ارب روپے کی بچت ہوئی جو حاجیوں کو واپس کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال حج ادا کرنے والے 12 ہزار 286 حاجیوں کو 12 ہزار روپے فی کس، 13 ہزار 939 حاجیوں کو 25 ہزار روپے، 8 ہزار 496 حاجیوں کو 48 ہزار روپے، 20 ہزار 302 حاجیوں کو 75 ہزار روپے، 10 ہزار 945 حاجیوں کو 90 ہزار روپے، جب کہ 400 حاجیوں کو ایک لاکھ 10 ہزار روپے فی کس کے حساب سے رقم واپس کی جا رہی ہے۔
سردار محمد یوسف نے وضاحت کی کہ جن حاجیوں کو رقم واپس نہیں کی جا رہی، انہوں نے حجازِ مقدس میں فراہم کی گئی تمام سہولیات سے مکمل استفادہ کیا تھا، جب کہ جنہیں رقم واپس کی جا رہی ہے وہ رہائش، ٹرانسپورٹ یا دیگر سہولیات سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حج 2026ء کے موقع پر حاجیوں کو سفری بیگ کے ساتھ سعودی کمپنی کی موبائل سم بھی فراہم کی جائے گی، جس میں انٹرنیٹ اور 300 سے 600 تک کالز کی سہولت میسر ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ حج تربیت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ حج 2026ء کے لیے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 40 دن کے حج کا پیکیج 11 لاکھ 50 ہزار اور 25 دن کے شارٹ حج کا پیکیج 12 لاکھ روپے رکھا گیا ہے، جب کہ سرکاری اسکیم کے تمام درخواست گزاروں کو ساڑھے 6 لاکھ روپے کی دوسری قسط جمع کرانا ہوگی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حج انتظامات سعودی تعلیمات کے مطابق کیے گئے ہیں، جب کہ پرائیویٹ اسکیم کے تحت حج کوٹے کی بکنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ وزارت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو حج کی سعادت حاصل ہو۔
ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر عطاء الرحمن نے بتایا کہ گزشتہ سال منیٰ اور عرفات میں حاجیوں کو چائے سمیت دیگر سہولیات فراہم کی گئیں، تمام حاجیوں کے لیے ٹرانسپورٹ میسر تھی اور موصول ہونے والی شکایات پر کارروائی کرکے ان کا ازالہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا، تاہم کینسر یا دیگر سنگین امراض میں مبتلا افراد کو حج پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔






