نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے جہاں ارکان کو اپنی رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم اختلافِ رائے کو پارٹی میں تقسیم یا فارورڈ بلاک سے تعبیر کرنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت مضبوط ہے اور تمام اہم فیصلے مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کیے جاتے ہیں، پارٹی کے اندر مختلف امور پر آراء کا تبادلہ جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ارکان قیادت سے الگ ہو رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ حالیہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اکثریتی ارکان نے شرکت کی جبکہ چند اراکین بیرون ملک ہونے یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، اجلاس میں پارٹی امور، حکومتی کارکردگی اور آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کے وژن اور پالیسیوں کے تحت کام کر رہی ہے، صوبائی حکومت کو پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے اور تمام منتخب نمائندے حکومتی معاملات میں متحد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے اور پارٹی قیادت ان کے ساتھ کھڑی ہے، موجودہ حالات میں پارٹی کے اندر اتحاد اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان نورا کشتی ہے: حافظ نعیم الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اختلافات کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام اراکین صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی اور عوامی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے متحد ہو کر کام کرتی رہے گی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کے اندر مشاورت کا عمل جاری رہے گا اور تمام فیصلے جمہوری اصولوں اور اجتماعی دانش کی بنیاد پر کیے جائیں گے تاکہ عوامی توقعات پر پورا اترا جا سکے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی آئینی اور عوامی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیتے ہوئے صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔







