وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق دکانداروں کو کے سی سی آئی (کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) کے ذریعے جلنے والے یا تباہ ہونے والے سامان کا معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ متاثرہ دکانداروں کو ایک کروڑ روپے تک کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دو ماہ کے اندر تمام متاثرہ دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی، جب کہ گل پلازہ کو اسی حالت میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں تمام عمارتوں کا آڈٹ شروع کر دیا گیا ہے اور اب تک 300 سے زائد عمارتوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ جن عمارتوں میں حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوں گے، انہیں بہت مختصر وقت دیا جائے گا اور حفاظتی اقدامات نہ کرنے کی صورت میں ایسی عمارتوں کو سیل کر دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امدادی ادارے الگ الگ انتظامات کے تحت کام کرتے رہے، تاہم اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امدادی اداروں کو ایک کمان کے تحت کام کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان فیصلوں پر تنقید ضرور کریں، مگر کسی کو خفیہ ایجنڈا چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ صوبے میں تمام عمارتوں کے لیے لازمی انشورنس سے متعلق قانون بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے قومی ٹیم کے اسکواڈ کا اعلان، کون کون شامل ہے؟
سیاسی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں کو صوبہ سندھ ایک آنکھ نہیں بھاتا، وہ خفیہ ایجنڈے کے تحت باتیں کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں، پچھلی حکومت کے دور میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں اٹھارہویں ترمیم کا ذکر کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ مسائل اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی ایف آئی آر درج کی جائے گی اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سانحات میں عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے، چاہے آگ کے واقعات ہوں، سیلاب ہوں یا بارشیں، پیپلز پارٹی نے ہر موقع پر عوام کی دادرسی کی ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جو لوگ بیک ڈیٹ میں لیز منظور کرتے رہے، وہی آج قومی اسمبلی میں اس کے خلاف قراردادیں پیش کر رہے ہیں۔







