ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے، جب کہ سابق کپتان بابر اعظم اور فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔

اسکواڈ میں فخر زمان، صائم ایوب، شاداب خان، نسیم شاہ، فہیم اشرف اور محمد وسیم جونیئر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ محمد سلمان مرزا، ابرار احمد، محمد نواز، عثمان طارق، خواجہ محمد نافع، صاحبزادہ فرحان اور عثمان خان (وکٹ کیپر) بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

پی سی بی کے مطابق تین میچوں پر مشتمل یہ سیریز 29 اور 31 جنوری اور یکم فروری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی جائے گی، جب کہ تمام میچز شام 4 بجے شروع ہوں گے۔ آسٹریلوی ٹیم 28 جنوری کو پاکستان پہنچے گی۔

بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی سری لنکا کے خلاف حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت نہیں کر سکے تھے، جس کا نتیجہ 1-1 سے ڈرا کی صورت میں نکلا۔ ان کی واپسی سے قومی ٹیم کو تجربہ اور توازن حاصل ہوگا۔

شاداب خان بھی اپنی فٹنس اور فارم میں بہتری کے بعد ٹیم میں شامل ہیں اور ابرار احمد، محمد نواز اور عثمان طارق کے ساتھ مل کر اسپن باؤلنگ یونٹ کی قیادت کریں گے۔

واضح رہے کہ سیریز سے قبل کھلاڑی اور معاون عملہ ہفتے کو لاہور میں جمع ہو کر تیاریوں کا آغاز کریں گے۔ آسٹریلیا اپریل 2022 کے بعد پاکستان میں اپنی دوسری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز کھیلے گا۔

یہ سیریز آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے قبل دونوں ٹیموں کے لیے اہم تیاری سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان کو ورلڈ کپ میں گروپ اے میں انڈیا، امریکا، نیدرلینڈز اور نمیبیا کے ساتھ رکھا گیا ہے، جب کہ آسٹریلیا گروپ بی میں سری لنکا، آئرلینڈ، زمبابوے اور عمان کے مدمقابل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  لالچ یا کچھ اور ، قومی کرکٹرز کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم، معاملہ کیا ہے؟

تاریخی طور پر پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 28 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں آسٹریلیا نے 14 جب کہ پاکستان نے 12 میچز جیتے، ایک میچ ٹائی اور ایک بے نتیجہ رہا۔

پاکستان کے 16 رکنی اسکواڈ میں سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نافع (وکٹ کیپر)، محمد نواز، محمد سلمان مرزا اور محمد وسیم جونیئر شامل ہیں۔

ان کے علاوہ نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، عثمان طارق اور عثمان خان بھی قومی اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔