ذرائع کے مطابق یہ ملاقات انتہائی اہم سفارتی پس منظر میں ہوئی، جس میں امریکی وفد کے دیگر ارکان بھی شریک تھے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد و مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئے، جہاں دونوں جانب سے اعلیٰ سطحی نمائندگی دیکھنے میں آئی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بات چیت کو تعمیری انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مکالمے کے فروغ میں سہولت کاری فراہم کرتا رہے گا، امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے، اور پاکستان کی میزبانی اس سلسلے میں ایک مثبت قدم ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی صرف اسی لیے زندہ ہیں کہ مذاکرات پر تیار ہوئے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، اور عالمی سطح پر معاشی استحکام کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری اور خطے میں جاری امن عمل کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں ہونے والی ہر پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔







