وزارتِ داخلہ اسلام آباد آمد پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صومالی ہم منصب اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور مشترکہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے، داخلی سلامتی کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ بارڈر مینجمنٹ، پولیس ٹریننگ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو بھی مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔

صومالیہ کے وزیر داخلہ علی یوسف نے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صومالیہ اس وقت دہشتگردی کے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور پاکستان کے ساتھ تعاون اس جدوجہد میں مددگار ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان صومالیہ کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور انسداد دہشتگردی، پولیسنگ، تربیت اور سیکیورٹی کے دیگر شعبوں میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ علاج اور تعلیم کے لیے پاکستان آنے والے صومالی شہریوں کو ویزا سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ عوامی سطح پر روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس: مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اراکین آمنے سامنے

صومالی وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اور شہری نظم و نسق کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ تقلید قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دورے کے نتیجے میں پاکستان اور صومالیہ کے تعلقات میں نئی جہت پیدا ہوگی۔

ملاقات کے دوران صومالی وزیر داخلہ نے محسن نقوی کو صومالیہ کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی اور وزیراعظم صومالیہ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے لیے خصوصی پیغام پہنچایا۔

وفد میں جمہوریہ صومالیہ کے سفیر شیخ نور محمد حسن حمزہ عدن، سیکرٹری وزارت خارجہ عثمان عبداللہی، ڈپٹی پولیس چیف لیبان، پولیس چیف کے مشیر مس ادل عبدی، پالیسی ایڈوائزر وزارت داخلہ مس آسمہ ہاغی اور سفارت خانہ صومالیہ کی ڈپلومیٹک کوآرڈینیٹر شامل تھیں۔

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد، ڈی جی ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔