افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں، پیپلز گرین بس سروس کیچ کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ ہے جس سے شہریوں خصوصاً طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔

انہوں  نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے نتائج بتدریج سامنے آ رہے ہیں،اصلاحات کے مثبت اثرات فوری نہیں بلکہ طویل المدتی ہوتے ہیں، تاہم مختلف شعبوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

انہوں نے تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صوبے میں بند اسکولوں کو دوبارہ فعال بنانے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر تیزی سے عمل جاری ہے،صوبے بھر میں ہزاروں تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مکران ڈویژن خصوصاً گوادر میں تعلیمی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہاں ایک بھی اسکول بند نہیں ہے،حکومت نے میرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتیوں کا عمل شروع کیا ہے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

میر سرفراز بگٹی کے مطابق اب تک تقریباً 3200 بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا جا چکا ہے اور مزید تعلیمی اداروں کو بھی مرحلہ وار کھولا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے فروغ سے نوجوانوں کو مثبت راستہ ملے گا اور وہ ترقی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کر سکیں گے۔

انہوں نے نوجوانوں، دانشوروں اور باشعور طبقات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ تشدد اور لاحاصل جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا،بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، ترقی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف آنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے اثرات پورے علاقے پر مرتب ہو رہے ہیں، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنا رہے ہیں: عطا تارڑ

انہوں  نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی بلوچستان کی ترقی، معاشی صورتحال اور توانائی کے مسائل سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اتفاق رائے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی بڑے مسائل کا حل ممکن ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے تاکہ ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جا سکے اور صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔