ترجمان کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان اور متعلقہ قوانین کے تحت استعفے کی جانچ پڑتال اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ آئینی طریقۂ کار کے مطابق عمل میں لایا جائے گا۔

گورنر کے مطابق گورنر ہاؤس تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاملے کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے استعفے کی وصولی کے بعد گورنر ہاؤس میں ابتدائی قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم گورنر فیصل کریم کنڈی نے معاملے پر حتمی آئینی رائے پیر کے روز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار تعطیل  کے باعث گورنر ہاؤس کا قانونی عملہ کل دستیاب نہیں ہوگا، لہٰذا بروز پیر معمولاتِ کار کے آغاز کے ساتھ ہی گورنر اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کریں گے۔

اس مشاورت میں وزیراعلیٰ کے استعفے سے متعلق آئینی تقاضوں، ممکنہ پیچیدگیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل قانونی رائے اور متعلقہ دستاویزات کا خود جائزہ لیں گے تاکہ آئینی تقاضے پوری طرح پورے کیے جا سکیں۔

گورنر خیبر پختو نخوا فیصل کریم کنڈی نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین کا استعفیٰ موصول ہوگیا ہے اورپیر کو دفتر کھلنے پراس پر فیصلہ کروں گا۔

گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ استعفیٰ ملنے کی رسید بھی دے چکا ہوں، استعفیٰ علی امین کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے اور قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔ استعفیٰ منظور کیے جانے تک علی امین وزیراعلیٰ رہیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ ڈی آئی خان میں علی امین سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ وزیراعلیٰ نے اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو تحریری ٹائپ شدہ استعفیٰ بھی ارسال کیا تھا، لیکن وہ پراسرار طور پر غائب ہو چکا ہے۔