خط میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں عمران خان اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں زیر حراست ہیں اور ملاقاتوں کے حقوق کا معاملہ پہلے بھی کئی بار اٹھایا جا چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قیدیوں کو اہل خانہ سے ملاقات کا حق نہ صرف قانونی طور پر بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے خط میں نشاندہی کی کہ جیل مینوئل اور عدالتی احکامات کے باوجود بنیادی حقوق کی فراہمی میں رکاوٹیں تشویشناک ہیں اور یہ ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے کہ قیدیوں کو انسانی سلوک، اہل خانہ سے ملاقات اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
خط میں انہوں نے پاکستان پریزن رولز 1978 اور پریزنز ایکٹ 1894 کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ان کے قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، اور اس سلسلے میں فوری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ قیدیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی متاثر ہونے کے خطرے سے بچنے کے لیے بچت اقدام کیے جائیں، حکومت
واضع رہے کہ اس خط کے بعد حکومت پر عوامی اور سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ انسانی حقوق اور قیدیوں کے حقوق کی رعایت ایک حساس اور عوامی سطح پر زیر بحث موضوع ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر اہل خانہ سے ملاقات نہ صرف قانونی تقاضا بلکہ انسانی ہمدردی کا تقاضا بھی ہے، جس پر حکومت کو فوری اور شفاف فیصلہ کرنا ہوگا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب عمران خان کے حمایتی اور سیاسی حلقے اس معاملے کو انسانی حقوق اور سیاسی انصاف کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، اور ممکنہ طور پر اس پر قومی سطح پر بحث بھی جاری رہے گی۔







