وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد کیس کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا اور تمام پہلوؤں کو شفاف انداز میں سامنے لایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) نے انمول عرف پنکی کے مبینہ منشیات نیٹ ورک پر باقاعدہ اور وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تفتیشی ٹیموں نے نیٹ ورک کے روابط، سپلائی چین اور مالی لین دین کے پہلوؤں پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے مبینہ شوہر اور سابق پولیس انسپکٹر رانا اکرام کو بھی تفتیش کے لیے طلب کر لیا گیا ہے،رانا اکرام سے نیٹ ورک سے متعلق اہم سوالات کیے جائیں گے اور ان کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سی سی ڈی ذرائع کے مطابق کیس کی مزید تفتیش کے دوران یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ منشیات کی ترسیل اور سپلائی کن کن علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی اور اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کون کون ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف لاہور کے کوٹ لکھپت تھانے میں درج مقدمے میں اسے تاحال اشتہاری قرار نہیں دیا گیا تھا، تاہم اب کیس کو مزید فعال انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق 2022 میں شاداب کالونی میں ایک کارروائی کے دوران لگژری گاڑی سے مبینہ طور پر منشیات کی ترسیل کے دوران ملزم ریاض بلوچ کو گرفتار کیا گیا تھا، جو انمول عرف پنکی کا بھائی بتایا جاتا ہے۔ اس کارروائی کے دوران انمول عرف پنکی موقع سے فرار ہوگئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض بلوچ کے خلاف لاہور میں 7 جنوری 2022 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا، اور حالیہ تحقیقات میں اس کیس کے مختلف پہلوؤں کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
کراچی میں گارڈن پولیس نے بھی ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے منشیات فروشی کے الزام میں انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے نیٹ ورک سے متعلق مزید شواہد سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر منشیات کی قیمت فی گرام 15 سے 20 ہزار روپے تک وصول کی جاتی تھی، جس سے اس نیٹ ورک کے مالی حجم کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق کیس کو انتہائی حساس نوعیت کا قرار دیتے ہوئے مختلف شہروں میں رابطوں اور نیٹ ورک کی کڑیوں کو جوڑا جا رہا ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔







