کیتھیڈرل چرچ میں کرسمس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سکھ برادری پگڑی پہننے کی وجہ سے ہیلمٹ استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہے، اسی لیے انہیں اس قانون سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پنجاب نے حقیقی معنوں میں اقلیتوں کو اپنا سر کا تاج بنایا ہے اور حکومت کی کامیابی کا معیار اقلیتوں کا محفوظ ہونا ہے۔ اگر کوئی اقلیتوں کے حقوق پامال کرے گا تو ریاست پوری قوت سے اس کا مقابلہ کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے اقلیتوں کے لیے قبرستانوں کا مسئلہ فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو اقلیت دوست صوبہ بنانا ہر شہری کی خواہش ہے اور بطور اکثریت مسلمانوں کی ذمہ داری زیادہ ہے کہ وہ اپنے اقلیتی بھائیوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ دھی رانی پروگرام، راشن کارڈ، ہونہار اسکالر شپ اور کسان کارڈ سمیت کسی بھی حکومتی منصوبے میں مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی۔

 انہوں نے بتایا کہ کرسچن برادری سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ مریم کو جب اسکالرشپ ملا تو انہیں ذاتی طور پر بہت خوشی ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اقلیتوں کے خلاف کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر اقلیتوں کے کسی فرد سے ناانصافی ہوئی تو میں خود سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوں گی۔ اقلیتوں کا دفاع نہ کرنے والی حکومت کو گھر چلے جانا چاہیے۔