وزیراعلیٰ نے وادیِ تیرہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے تیرہ متاثرین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سہیل آفریدی نے کہا کہ تیرہ کے عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار کی ناکامی کے باوجود اب بھی بند کمروں میں فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس کا نقصان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ان پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی پوری قوم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ میرے دل میں اپنے عوام کے لیے درد ہے، اسی لیے میری سرزمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے دن سے امن کے لیے آواز بلند کی ہے۔ ہم کل بھی آپریشن کے خلاف تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی اس ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

متاثرین سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میں آپ میں سے ہوں اور مرنے دم تک پہاڑ کی طرح آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا، اعلان کرکے عوام کو دکھ اور تکلیف کے بھنور میں دھکیل کر بے سہارا چھوڑ دیا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ متاثرہ عوام کا تحفظ اور ان کی عزت اب ان کی براہِ راست ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیرہ متاثرین کے مسائل کے حل میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ لوگوں کو روک کر قطاروں میں ذلیل کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے نادرا کو ہنگامی بنیادوں پر مزید دفاتر قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے وعدہ ہے کہ ہم بندوق کو قلم سے بدلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقل اور پائیدار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تشکیل پانے والی متفقہ پالیسی ہی واحد حل ہے۔