مبینہ آڈیو پیغام میں شیخ وقاص اکرم نے گزشتہ روز کے دھرنے میں ارکانِ پارلیمنٹ کی عدم شرکت کا ذمہ دار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو قرار دیا۔

آڈیو میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جاتے ہی کہا کہ ورکرز نہیں بلکہ ارکانِ قومی اور صوبائی اسمبلی کو کال کی جائے۔ مبینہ آڈیو پیغام میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ سہیل آفریدی کا اس حوالے سے ایک ویڈیو کلپ بھی موجود ہے، جو شیئر کیا گیا ہے۔

شیخ وقاص اکرم کے مطابق منگل کے روز پنجاب سے ارکانِ اسمبلی آئے، تاہم بعد ازاں واپس اپنے حلقوں میں چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک رات قبل خیبر پختونخوا ہاؤس میں میٹنگ کی تھی اور اگر اڈیالہ دھرنا دینا تھا تو اس کا اعلان اسی میٹنگ میں کر دینا چاہیے تھا۔

مبینہ آڈیو پیغام میں شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کے پاس ہیلی کاپٹر یا جہاز نہیں ہوتا کہ وہ فوری طور پر پہنچ جائے۔

ان کے مطابق جو ارکان قریب تھے وہ پہنچ گئے، جب کہ آج سپریم کورٹ کے باہر رش تھا اور زیادہ ارکان وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ارکانِ قومی یا صوبائی اسمبلی کا قصور نہیں بلکہ منصوبہ بندی کرنے والوں کی غلطی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص دس گھنٹے کے سفر پر ہو اور اسے رات کے وقت فوری پہنچنے کا کہا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور مین ہول سانحہ:  مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، پیسوں سے میرے بچوں کو ماں واپس تو نہیں مل سکتی ، شوہر

شیخ وقاص اکرم نے مبینہ آڈیو پیغام میں مزید کہا کہ اگر وزیراعلیٰ نے دھرنا دینا ہی تھا تو کم از کم اپنے صوبے کے 90 ممبرانِ صوبائی اسمبلی کو ساتھ لاتے، کیونکہ وہ قریب تھے اور آسانی سے پہنچ سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والی رات کی میٹنگ میں اسد قیصر اور جنید اکبر بھی موجود تھے، اس موقع پر واضح طور پر بتانا چاہیے تھا کہ دھرنا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیصلے آخری وقت پر کرنا مناسب نہیں اور رات ہی کو بروقت اطلاع دی جانی چاہیے تھی۔