ترجمان وزیرِاعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لاڑکانو میں تعمیر ہونے والا جدید اسپتال بیسمنٹ اور چھ منزلوں پر مشتمل ہوگا، جب کہ مجموعی طور پر اس میں 596 بستروں کی گنجائش رکھی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر لاڑکانو اور اس سے ملحقہ علاقوں کے عوام کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اسپتال کی تعمیر دو مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں 288 نرسنگ کیئر، 92 ایمرجنسی اور 48 آئی سی یو بیڈز شامل ہوں گے، جب کہ دوسرے مرحلے میں مزید 144 نرسنگ کیئر اور 24 آئی سی یو بیڈز کا اضافہ کیا جائے گا۔

وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ اسپتال میں 8 جدید آپریشن تھیٹرز، جدید آئی سی یوز، ایمرجنسی بلاک اور مختلف خصوصی وارڈز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ڈائیلسس، ریڈیالوجی، لیبارٹری، بلڈ بینک اور ری ہیبیلیٹیشن جیسی جدید طبی سہولیات بھی دستیاب ہوں گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسپتال کا مجموعی کورڈ ایریا 6 لاکھ اسکوائر فٹ سے زائد ہوگا، جب کہ منصوبے پر 3 ارب 10 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ منصوبے کی پلاننگ بہترین انداز میں کی جائے اور شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اردنی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جی ایچ کیو آمد، پاکستان اور اردن کا دفاعی تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں، منصوبہ دو سال کے اندر مکمل کر کے اسپتال کو فعال کیا جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ اسپتال کے دو ٹاورز تعمیر کیے جائیں اور ایک ٹاور پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل سے لاڑکانو اور گردونواح کے عوام کو جدید طبی سہولیات مقامی سطح پر میسر آئیں گی اور مریضوں کو علاج کے لیے کراچی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔