وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور وزیراعظم کے ساتھ مل کر حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کی تعداد 66 لاکھ ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر موٹرسائیکل سوار کو اپریل سے ماہانہ دو ہزار روپے دیے جائیں گے، جو 20 لیٹر ایندھن کے حساب سے فی لیٹر 100 روپے بنتے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ ایک خصوصی ایپ کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی اور جس شخص کے نام پر موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہوگی، رقم اسی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد اپنی موٹرسائیکلیں اپنے نام منتقل کروا لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایپ میں شناختی کارڈ نمبر درج کرنے سے موٹرسائیکل کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی، جب کہ تصدیق کے 15 دن بعد رقم مستحقین کو منتقل کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اگر موٹرسائیکل آپ کے نام پر نہیں تو 15 دن کے اندر اپنے نام منتقل کروا لیں، اس مقصد کے لیے ٹرانسفر فیس معاف کی جا رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ لوئر کلاس کے ریلوے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، جب کہ ابتدائی مرحلے میں سبسڈی صرف اپریل کے مہینے کے لیے دی جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ میں 27 ہزار 297 بسیں رجسٹرڈ ہیں اور صرف رجسٹرڈ گاڑیوں، ٹرکوں اور موٹرسائیکلوں کو سبسڈی دی جائے گی۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انٹر سٹی اور انٹرا سٹی منی بسوں، کوچز اور بس مالکان کو کرایے نہ بڑھانے کا پابند کیا جائے گا، جب کہ مسافر بسوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ روپے تک سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔