وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور وزیراعظم کے ساتھ مل کر حالات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں قومی یکجہتی برقرار رکھتے ہوئے چاروں صوبوں اور وفاق کے درمیان مسلسل مشاورت کی… pic.twitter.com/PH96MQ1Ivg
— Sindh Information Department (@sindhinfodepart) April 3, 2026
انہوں نے کہا کہ سندھ میں رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کی تعداد 66 لاکھ ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر موٹرسائیکل سوار کو اپریل سے ماہانہ دو ہزار روپے دیے جائیں گے، جو 20 لیٹر ایندھن کے حساب سے فی لیٹر 100 روپے بنتے ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ ایک خصوصی ایپ کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی اور جس شخص کے نام پر موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہوگی، رقم اسی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد اپنی موٹرسائیکلیں اپنے نام منتقل کروا لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایپ میں شناختی کارڈ نمبر درج کرنے سے موٹرسائیکل کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی، جب کہ تصدیق کے 15 دن بعد رقم مستحقین کو منتقل کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اگر موٹرسائیکل آپ کے نام پر نہیں تو 15 دن کے اندر اپنے نام منتقل کروا لیں، اس مقصد کے لیے ٹرانسفر فیس معاف کی جا رہی ہے۔
Sindh CM @MuradAliShahPPP announced Rs55 billion targeted subsidy package to cushion the impact of rising fuel prices.
— Sindh Chief Minister House (@SindhCMHouse) April 3, 2026
* Rs2,000/month for motorcycle owners
* Support for 336,000 small farmers
* Subsidy for transport sector to keep * fares in check
* Railway fares frozen pic.twitter.com/QRpoWsJJ0N
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ لوئر کلاس کے ریلوے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، جب کہ ابتدائی مرحلے میں سبسڈی صرف اپریل کے مہینے کے لیے دی جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ میں 27 ہزار 297 بسیں رجسٹرڈ ہیں اور صرف رجسٹرڈ گاڑیوں، ٹرکوں اور موٹرسائیکلوں کو سبسڈی دی جائے گی۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انٹر سٹی اور انٹرا سٹی منی بسوں، کوچز اور بس مالکان کو کرایے نہ بڑھانے کا پابند کیا جائے گا، جب کہ مسافر بسوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ روپے تک سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔






