وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے جمعرات کو ملائیشیا اور انڈونیشیا کی قیادت سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں شہباز شریف نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں اور برادر خلیجی ممالک پر ہونے والی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، دشمنی کا خاتمہ کریں اور اپنے اختلافات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن کی بحالی اور حالات کو معمول پر لانا انتہائی ضروری ہے، تاہم یہ مقصد تمام فریقوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کے مظاہرے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے مل کر کام کرنے اور اپنے مؤقف کو مستقل بنیادوں پر مربوط رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشین وزیراعظم کو افغانستان کے حوالے سے حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات، ان کیمرہ بریفنگ
وزیراعظم نے ایران پر اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ بعض برادر خلیجی ممالک پر بعد میں ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے انڈونیشیا کے صدر کو بحران کے تناظر میں خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی سفارتی رابطہ کاری سے بھی آگاہ کیا۔
Spoke to my dear brother Prime Minister Anwar Ibrahim @anwaribrahim today. We shared deep concern over the escalating situation in the Middle East following Israel’s attacks on Iran and the subsequent strikes on brotherly Gulf countries.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 5, 2026
I emphasized the imperative of respecting…
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران وزیراعظم نے صدر پرابوو سوبیانتو کو افغانستان سے متعلق حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا، جب کہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیاگیا۔






