ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو پیغام بھجوایا گیا ہے جس میں انہیں وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعظم آفس میں ملاقات کی دعوت دی گئی تھی تاکہ اہم سیاسی معاملات پر براہ راست بات چیت کی جا سکے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعظم آفس میں ملاقات کرنے سے معذرت کرلی ہے، اور اس کے بجائے انہوں نے غیر جانبدار مقام پر ملاقات کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ بات چیت زیادہ شفاف اور قابل قبول ماحول میں ہو سکے۔

 ابتدائی مشاورت کے دوران محمود خان اچکزئی نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کی رہائشگاہ پر ملاقات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان ممکنہ ملاقات کا ماحول مزید واضح ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

 حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ پیغام رسانی گزشتہ ہفتے سے جاری ہے، اور اس کا مقصد سیاسی کشیدگی میں کمی اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم  شہباز شریف کی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت

ملاقات کے دوران نہ صرف موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی بلکہ اہم آئینی اور انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے، جن میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تقرری جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ   حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ رابطے اگر نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو ملک میں جاری سیاسی بے یقینی کم ہونے اور ادارہ جاتی معاملات میں بہتری آنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اصل پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریقین کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کیا وہ کسی مشترکہ سیاسی فریم ورک پر متفق ہو پاتے ہیں یا نہیں۔