اسلام آباد میں انڈس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹم ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس نمائش میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے اور ایسے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صفِ اول کے ممالک میں شامل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم اکیڈمیا، صنعت، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک جگہ جمع کر رہا ہے، جبکہ رواں سال پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی میزبانی بھی کی، جو جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روبوٹکس، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کی جدت سے معیشت مضبوط، قومی سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ راس ایکسپو اور اے آئی وژن جدید مستقبل کو عملی شکل دے رہے ہیں اور جدت کو قابلِ عمل حل میں تبدیل کرکے عوام کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ان کے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی، جب پورا خاندان پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات اور "اوچے برج لاہور دے" جیسے پروگرام مل کر دیکھا کرتا تھا، مگر آج ٹیکنالوجی ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں مشینیں محسوس کرتی ہیں، فیصلے کرتی ہیں اور ان پر عمل بھی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے زراعت میں انقلاب برپا کر دیا ہے، ڈرونز فصلوں کی بیماریوں کی نشاندہی، پانی اور کھاد کے مؤثر استعمال میں مدد دے رہے ہیں، جب کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے دوران بھی جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابلِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور نمائش میں پیش کیے گئے سمیولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار کیے گئے ہیں، جبکہ ڈرونز کی مقامی تیاری 60 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی مسلح افواج نے آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا مؤثر دفاع کیا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں ایئر چیف اور نیول چیف کی معاونت بھی شاندار رہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جاری رکھے گا اور یونیورسٹیوں، تحقیق و ترقی کے مراکز اور صنعتوں کو قومی جدت کے نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کسانوں، چھوٹے کاروبار، خواتین اور نوجوانوں کو بھی اس کے ثمرات پہنچیں گے۔ اس مقصد کے لیے آٹونومس سسٹمز کے حوالے سے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بھی تشکیل دیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں تبدیل کیا جائے گا، پاکستان کے 25 کروڑ عوام نئے مستقبل کے لیے پرعزم ہیں اور ملک دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کا محتاج بننے کے بجائے اپنی تقدیر خود لکھے گا۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ انتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لیے روشن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔