اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، ملاقات کے لیے مقررہ دن بھی پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کو رسائی نہ مل سکی، جس کے باعث اہم سیاسی اور تنظیمی معاملات پر رہنمائی حاصل کرنا ممکن نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کے باعث پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے واضح سمت کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے، پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال، عدالتی معاملات اور تنظیمی فیصلوں پر ان کی ہدایات حاصل کی جا سکیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ بھی مسلسل ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کر رہے ہیں، خاندان کی خواہش ہے کہ ان کی تینوں بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ان کی خیریت دریافت کر سکیں۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف عدالتی کارروائیاں اور سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے، ایسے ماحول میں مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اعتماد کی فضا قائم ہونا ضروری ہے۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی سے مسلسل رابطہ نہ ہونا ہے، پارٹی قیادت اہم فیصلوں کے لیے بانی پی ٹی آئی کی رہنمائی کی منتظر ہے، تاہم ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے تنظیمی امور متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید پرہیں: بند کمروں کے فیصلوں نے 80 ہزار جانیں لیں، اب ایسے فیصلے نہیں مانیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں پارٹی رہنماؤں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ انہیں اہم سیاسی فیصلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے بغیر کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملاقاتوں کے عمل کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ پارٹی کی قیادت اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی واضح انداز میں مرتب کر سکے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ متعلقہ حکام ملاقاتوں کے حوالے سے عائد پابندیوں پر نظرثانی کریں گے تاکہ قانونی اور انسانی تقاضوں کے مطابق ملاقاتوں کا سلسلہ بحال ہو سکے اور سیاسی معاملات میں پائی جانے والی بے یقینی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔







