ملاقات کے دوران چینی وفد نے وزیراعظم کو پاکستان میں گرین سائلوز کے لیے ڈیمانسٹریشن سینٹر کے قیام سے متعلق بریفنگ دی۔ وفد کو بتایا گیا کہ فیمسن اور گرین پاکستان انیشی ایٹو کے درمیان اس منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو چکے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چینی کمپنی پاکستان میں غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے جدید اسٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی افرادی قوت کی تربیت میں دلچسپی رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی اجناس کے موجودہ اسٹوریج مراکز کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے دوطرفہ دوستی کو مزید فروغ ملے گا، جبکہ اس منصوبے سے پاکستان کے زرعی شعبے، غذائی تحفظ اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبے میں پاکستانی افرادی قوت کی ہنرمندی اور تربیت کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مقامی افراد جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

اس موقع پر وفد کے سربراہ نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چین کے دوران ہونے والی ملاقات کا بھی تذکرہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔