وزیراعظم نے کہا کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنی مدتِ ملازمت کے دوران بہترین عسکری قیادت کا مظاہرہ کیا اور قومی سلامتی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم اور آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹس میں تبدیلیوں کے بعد آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز  کا نیا عہدہ تفویض کر دیا گیا ہے، جس کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔

آئینی ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا، تاہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی مدت ملازمت پوری ہونے تک یہ عہدہ برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے مجموعی طور پر چار بل پیش کیے تھے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025، پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 اور پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل 2025 پیش کیے، جنہیں ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا تھا۔

اسی طرح قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی اکثریتی ووٹ سے منظور کیا، جو وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر ایوان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ آئینی عدالت قائم ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں بھی ترمیم کی گئی ہے، جس سے متعلق تین قوانین میں تبدیلی کی سمریاں وزارتِ دفاع سے موصول ہوئیں۔ انہوں نے سپلیمنٹری ایجنڈا پیش کرنے کی اجازت طلب کی، جو ایوان نے دے دی۔

سپلیمنٹری ایجنڈا پیش کیے جانے کے بعد حکومت نے چاروں بلز کلاز وار منظوری کے لیے ایوان کے سامنے رکھے، جس کے بعد پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025، پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025 اور پاکستان ایئرفورس ترمیمی بل 2025 کو باضابطہ منظور کر لیا گیا۔

اسی دوران وزیرِ قانون نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر (ترمیمی) بل 2025 پیش کیا، جو بھی کثرت رائے سے منظور ہوا۔

وزیرِ قانون کے مطابق فوجی قوانین میں ترمیم کا بنیادی مقصد چیف آف آرمی اسٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز  کا عہدہ دینا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کو ختم کرنا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت تقرری کی تاریخ سے پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔

تبدیلیوں کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی جگہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ  کا عہدہ قائم کیا جائے گا۔ ترمیم کے مطابق وزیراعظم، آرمی چیف کی سفارش پر آرمی کے کسی بھی جنرل کو کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کریں گے، جس کی مدت تین سال ہوگی۔

وزیراعظم آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو دوبارہ تعینات کرنے یا مدت میں مزید تین سال توسیع دینے کا اختیار بھی رکھتے ہوں گے۔

ایئر فورس اور نیوی کے قوانین میں بھی ترامیم کر کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کا ذکر اُن کے ضوابط سے نکال دیا گیا ہے۔