وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شرم الشیخ امن کانفرنس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر گزشتہ ماہ شروع ہونے والی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

23 ستمبر 2025 کو وزیراعظم پاکستان نے نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سات عرب و اسلامی ممالک مصر، اردن، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ترکی کے رہنماؤں کے ساتھ غزہ میں امن کے قیام کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی تھی۔

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں عرب و اسلامی ممالک نے صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے جامع اور پائیدار جنگ بندی کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ کانفرنس میں شرکت پاکستان کے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کے جائز مؤقف کی تاریخی، اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا مظہر ہے۔

پاکستان کو امید ہے کہ یہ امن کانفرنس اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، فلسطینی شہریوں کے تحفظ، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی، انسانی بحران کے خاتمے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے راستہ ہموار کرے گی۔

پاکستان کو توقع ہے کہ یہ کوششیں ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بنیاد رکھیں گی، جس کا مقصد آزاد، مستحکم اور متصل ریاستِ فلسطین کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور جو 1967 سے قبل کی سرحدوں اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سمیت دیگر سینئر وزراء بھی موجود ہوں گے۔