انگلینڈ نے ٹیسٹ کے چوتھے روز اپنی دوسری اننگز 7 وکٹوں کے نقصان پر 177 رنز سے دوبارہ شروع کی اور مزید 31 رنز کا اضافہ کرکے 208 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ ڈین لارنس 54 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جب کہ ہیری بروک نے 34 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دوسری اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ خرم شہزاد اور محمد علی نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 290 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ یوں انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 180 رنز کی اہم برتری حاصل ہوئی، جس کے بعد میزبان ٹیم نے دوسری اننگز میں 208 رنز بنا کر پاکستان کو 389 رنز کا ہدف دیا۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور صرف 14 رنز پر تین اہم وکٹیں گر گئیں۔ اذان اویس، عبداللہ شفیق اور بابر اعظم جلد پویلین لوٹ گئے۔ بابر اعظم دونوں اننگز میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور پہلی اننگز میں 8 جب کہ دوسری اننگز میں صرف 6 رنز بنا سکے۔
اس موقع پر شان مسعود اور سعود شکیل نے اننگز کو سنبھالا اور چوتھی وکٹ کے لیے 97 رنز کی شراکت قائم کی۔ تاہم شان مسعود 26 رنز بنا کر اولی رابنسن کا شکار ہوگئے، جب کہ محمد رضوان بھی صرف ایک رن بنا سکے۔
دوسرے اینڈ پر سعود شکیل نے مزاحمت جاری رکھی اور 122 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ وہ اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری سے صرف 3 رنز کی دوری پر آؤٹ ہوئے۔ ان کی وکٹ گرنے کے بعد پاکستان کی آخری امید بھی دم توڑ گئی اور پوری ٹیم 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے دوسری اننگز میں 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ جوفرا آرچر نے 2 جب کہ جوش ٹنگ نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ رابنسن نے پورے میچ میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے میچ میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کیں اور لارڈز میں پانچ وکٹیں لینے والے پاکستانی بولرز کی فہرست میں شامل ہوگئے۔
پاکستان کے لیے امام الحق انجری کے باعث دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ نہیں کرسکے، جب کہ ان کی جگہ سلمان آغا نے متبادل کھلاڑی کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں۔
انگلینڈ نے اس کامیابی کے ساتھ تین میچوں کی سیریز ایک میچ باقی رہتے ہوئے 2-0 سے اپنے نام کرلی ہے۔ یہ 2024 کے بعد انگلینڈ کی پہلی ٹیسٹ سیریز فتح بھی ہے، جب کہ جو روٹ نے کپتان کی حیثیت سے اپنی دوسری مدت کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز جیت لیے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے لیے سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ اب اپنی ساکھ بچانے کا موقع ہوگا۔ دونوں ٹیمیں 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں مدمقابل ہوں گی۔







