سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی سعودی عرب جائے گا، جس میں وفاقی وزرا اور سینئر حکام شامل ہوں گے۔ دورے کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا، اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں جاری شراکت داری کا جائزہ لینا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون، تجارت، توانائی، دفاع، افرادی قوت، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، زراعت اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے جاری منصوبوں اور مستقبل کے مجوزہ منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ سرمایہ کاری کے عمل کو مزید تیز کرنے اور مشترکہ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور، مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز، غزہ کی انسانی صورتحال، ایران اور خطے میں حالیہ پیش رفت، انسداد دہشت گردی، علاقائی امن و استحکام اور سیکیورٹی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دونوں ممالک کی قیادت مستقبل میں اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ بھی کرے گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے دورۂ سعودی عرب کے دوران سعودی قیادت کا پاکستان کی مسلسل اقتصادی معاونت، سرمایہ کاری کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون پر شکریہ بھی ادا کریں گے۔ توقع ہے کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفاد کے نئے منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے اہم فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ پاک۔سعودی تعلقات کے فروغ، اقتصادی تعاون کے استحکام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں کا اہم تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔







