اویس لغاری نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کے لیے نئے اور مسابقتی نظام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے، جس کے تحت بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے فریق آپس میں براہ راست لین دین کرسکیں گے۔

وفاقی وزیر کے مطابق نئے نظام کے تحت کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ حکومت کو بجلی فروخت کرنے پر مجبور کرے اور نہ ہی حکومت بجلی خریدنے کی پابند ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت ایک نظام کے تحت بجلی خرید کر صارفین تک پہنچاتی رہی ہے، تاہم اب بجلی کی خرید و فروخت کا طریقہ کار تبدیل کیا جا رہا ہے اور اسے زیادہ مسابقتی اور شفاف بنایا جائے گا۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے کام کیا گیا ہے۔ نئے نظام کا مقصد بجلی کی خریداری میں مسابقت بڑھانا اور صارفین کو متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کا موقع دینا ہے۔

وزیر توانائی نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں یہ نظام صنعتی اور بڑے بجلی صارفین کے لیے ہوگا، جب کہ ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس مرحلے میں براہ راست بجلی خرید سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی پہلی ویلنگ نیلامی کے تحت ابتدائی مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی مسابقتی بنیاد پر پیش کی جا رہی ہے، جب کہ آئندہ 5 سال کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کا منصوبہ ہے۔

اویس لغاری کے مطابق آنے والے برسوں میں ملک میں بجلی کی باقاعدہ مارکیٹ تشکیل پائے گی، جس کے بعد صارفین کو بجلی کے مختلف ذرائع میں سے انتخاب کا زیادہ موقع مل سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس میں بجلی کی خرید و فروخت شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر ہو، جبکہ سستی بجلی کی دستیابی سے پاکستانی صنعتوں کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے اور برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر نے بجلی کے شعبے میں ماضی کے نظام پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کا نام بدنام ہوچکا ہے اور حکومت نے گزشتہ دو برس کے دوران بجلی کے شعبے میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔

نئے نظام کے تحت حکومت کے بجائے بجلی پیدا کرنے والے اور اہل صارفین آپس میں بجلی کی خرید و فروخت کرسکیں گے، جب کہ بجلی کی ترسیل کے لیے موجودہ قومی گرڈ کا استعمال کیا جائے گا۔