سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے دورہ ریاض کے دوران سعودی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔ خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، حالیہ مذاکراتی تعطل اور جنگ بندی کے مستقبل پر تبادلہ خیال ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔
یہ دورہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے فوراً بعد ہو رہا ہے، جنہیں ایک دہائی سے زائد عرصے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے ان مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا، جس کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب مذاکراتی تعطل کے بعد امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کے منصوبے نے بھی عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، اس پیش رفت سے خلیجی خطے میں قائم عارضی جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جو حالیہ چھ ہفتوں کی شدید کشیدگی کے بعد ممکن ہوئی تھی۔
ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں معاشی تعاون اور مالی معاونت کے امور بھی زیر غور آئیں گے،سعودی عرب اور قطر پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان کر چکے ہیں، جسے اسلام آباد کے لیے اہم معاشی سہارا قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی شامل ہوں گے، جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بھی امریکا کے دورے کے بعد وفد میں شامل ہونے کا امکان ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی جانب سے اضافی عسکری تعاون اور فضائی اثاثوں کی تعیناتی کی بھی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی حالات میں وزیراعظم کا یہ دورہ انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف سفارتی روابط کو تقویت ملے گی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی نئی سمت مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی بظاہر برقرار ہے، تاہم خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال نے سفارتی حلقوں کو الرٹ کر دیا ہے اور تمام فریقین کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔







