انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دے گی تو اس سے عالمی نظام اور سلامتی پر سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں،زور دیا کہ ایران خطے میں امن قائم رکھنے اور دیگر ممالک کے ساتھ متنازع صورتحال پیدا نہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ذرائع کے مطابق گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی۔ ایران کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو یہ یقین دہانی کرائی کہ ایران کسی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لے گا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور ایران کے عوام و امت مسلمہ کے لیے پاکستانی عوام کی دعاؤں کا پیغام بھی بھیجا۔
مزید پڑھیں: ایران پر کسی بھی طرح کے حملوں میں ہم شامل نہیں ہوں گے، متحدہ عرب امارات
یاد رہے کہ اس قسم کی باہمی گفتگو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ملاقات کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور تعاون پر مبنی ہوں گے۔







