جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق یہ بات جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے متحدہ عرب امارات کے سفیر جمال المشرخ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر متحدہ عرب امارات کا مؤقف پہلے بھی واضح تھا اور اس وقت بھی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اپنے ریاستی علاقے کو ایران کے خلاف کسی بھی حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی وہ اس تنازع میں کسی صورت شامل ہونا چاہتا ہے۔
“Our bases are not being used to attack Iran”
— TRT World (@trtworld) March 10, 2026
The United Arab Emirates decried Monday that it was being targeted “in a very unwarranted manner” in the Middle East war, stressing it would “not partake in any attacks against Iran”.
“The UAE does not seek to be drawn into… pic.twitter.com/MubZfDJhmx
جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے یورپی صدر دفتر سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اس بات کی بھی مذمت کی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں تہران کی طرف سے کیے جانے والے جوابی حملوں میں یو اے ای کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ خطے میں جاری اس تازہ کشیدگی کے باوجود وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا حملے کا حصہ نہیں بنے گا۔






