وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزراء رانا ثنا اللہ، محسن نقوی اور امیر مقام بھی موجود تھے جبکہ صوبائی سطح پر مشیر خزانہ مزمل اسلم بھی شرکت کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران سب سے اہم موضوع خیبرپختونخوا کے این ایف سی میں واجب الادا فنڈز کی فوری فراہمی اور آپریشن کی مد میں 4 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری تھا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی مشیر خزانہ کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا جائزہ لیں اور ایک قابل عمل حل نکالیں، جس کے لیے مزید چند ملاقاتیں متوقع ہیں۔

ملاقات کے دوران سیکیورٹی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی، خاص طور پر صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے تعاون پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومت کو تاکید کی کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پورے طور پر نبھائیں اور عوامی فلاح کے اقدامات کو مؤثر بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں، اس کا حل صرف عسکری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ خیبرپختونخوا کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مکمل تعاون جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ صوبوں کے ساتھ قریبی روابط اور مؤثر اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وزیر اعظم ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔