وزارت خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت، بشمول غزہ اور فلسطین کی صورتحال کا جائزہ لیا، جو اُن کی گزشتہ بات چیت کا تسلسل تھا۔ دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب اُن آٹھ مسلم ممالک میں شامل ہیں، جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کی کارروائیوں اور غزہ پر حملوں کے خاتمے کے منصوبے پر کام کیا۔
اس ماہ کے آغاز میں، دونوں ممالک نے اسرائیلی حکومت اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا، جس کے ذریعے دو سالہ اسرائیلی بمباری کے بعد امن قائم کرنے کی امید ظاہر کی گئی۔
مزید برآں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات قائم ہیں، جو تذویراتی، عسکری اور اقتصادی تعاون، مشترکہ اقتصادی مفادات اور اسلامی ورثے پر مبنی ہیں۔ ان تعلقات میں معاشی معاونت اور توانائی کی فراہمی بھی شامل ہے، جب کہ سعودی عرب اسلام آباد کے لیے مالی امداد اور تیل کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔
ستمبر میں، دونوں ممالک نے ریاض میں ایک اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔







