ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ پاک افغان سرحدی مقامات پر کشیدگی کے باعث طورخم کے راستے سے روزانہ ہزاروں افغان شہریوں کی وطن واپسی وقتی طور پر روکی گئی ہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد ہی واپسی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

 پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کے دوران پاکستان میں مقیم 20 لاکھ سے زائد افغان شہری رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، تاہم موجودہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے یہ عمل عارضی طور پر معطل ہے۔

 گزشتہ شام افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا اور رات بھر جھڑپیں جاری رہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کے حملوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیتے ہوئے متعدد چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان کی اشتعال انگیزی پر پاکستان کا بھرپور جواب جاری ہے، عطاء اللہ تارڑ

تحلیل کاروں کے مطابق طورخم سرحد پر موجودہ حالات سے خطے میں انسانی اور سکیورٹی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں اور فوری طور پر دونوں جانب مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت ہے تاکہ افغان پناہ گزینوں کی محفوظ وطن واپسی یقینی بنائی جا سکے۔

 پاک افغان سرحد کے تمام سیکٹرز پر صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور حالات بہتر ہوتے ہی واپسی کے عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی کے پیش نظر اہم ہے بلکہ سرحدی سلامتی اور کشیدگی کے توازن کے لیے بھی ضروری ہے۔