آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق 28 اور 29 اپریل 2026 کو ہونے والی کارروائیوں میں مارے جانے والے دہشتگردوں کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا، جنہیں انڈیا کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ضلع مہمند میں سکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کرنے والے ایک گروہ کی نقل و حرکت بروقت پکڑ لی، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے آٹھ دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
اسی طرح ایک اور کارروائی شمالی وزیرستان میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے دراندازی کی ایک اور کوشش کو ناکام بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید پانچ دہشتگرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے نبھانے میں ناکام رہی ہے۔
بیان میں افغان حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کریں۔
مزید پڑھیں: ڈپلومیسی کا عمل جاری، امریکا و ایران سے رابطے میں ہیں: پاکستان
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں اور علاقے میں کلیئرنس (سینیٹائزیشن) آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔







