سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قبضے میں آنے والی پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستانی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور تربیت کا عملی مظاہرہ ہے۔

ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مؤثر اور طاقتور آپریشن کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا، جس سے طالبان کے اہم وسائل اور سپلائی لائن کو شدید نقصان پہنچا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے دشمن کی پیش قدمی ناکام ہوئی اور اسے بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا افغان طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری، ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا دہشت گردانہ کارروائی کا منہ توڑ جواب دینا تھا۔ حکام نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر ممکن اقدام کر رہی ہیں تاکہ سرحدی خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور افغان طالبان کو بلا اشتعال جارحیت کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

پاک فوج نے سرحدی علاقوں میں مزید سخت حفاظتی اقدامات جاری رکھے ہیں اور کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مزید کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ سرحد کے دونوں جانب امن قائم رہے۔