انہوں نے افغان طالبان اور کابل رجیم سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی پراکسی کے طور پر کام کرنا بند کریں اور پورے خطے کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی غلط حکمت عملی ترک کریں،کابل رجیم کی موجودہ پالیسیاں پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ جوابی کارروائی کرے تاکہ اپنی سرحدوں اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج مشرق سے مغربی سرحدوں تک ملک کے ہر انچ کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ نہیں، مذاکرات ہی حل ہیں: حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے کہا کہ پاکستان تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم اگر للکارا گیا تو دشمن کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلح افواج ہر لمحہ چوکس اور تیار ہیں، اور امن قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دے سکتی ہیں۔

واضع رہے کہ صرف پاک فوج کے حوصلے اور آپریشن کی کامیابی کی تصدیق ہے بلکہ یہ خطے میں کشیدگی کے دوران قومی یکجہتی اور دفاعی طاقت کا بھی پیغام دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائیاں خطے میں استحکام اور سرحدی تحفظ کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔