نیویارک میں ایک انٹرویو کے دوران عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ دفاعی معاہدہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط تعاون، مضبوط اسٹریٹجک اتحاد اور قریبی تعلقات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ شراکت داری برادرانہ روابط اور علاقائی و عالمی امور پر ہم آہنگی پر مبنی ہے، جسے اب عملی اور مؤثر شکل دے دی گئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17 ستمبر کو اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے ذریعے مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ عسکری اور سیکیورٹی تعاون کو باضابطہ فریم ورک میں ڈھالا گیا۔ یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے موقع پر طے پایا، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

عاصم افتخار احمد کے مطابق دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعاون کے فریم ورک کو بھی حتمی شکل دی گئی، جو دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے اور سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی تعاون کے شعبوں میں تعلقات مزید وسعت اختیار کر رہے ہیں۔

شدت پسندی کے خلاف مؤقف
پاکستان کو درپیش حالیہ دہشت گردی کی لہر پر بات کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کے امن، استحکام اور معاشی بحالی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، تاہم پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دو بڑے شدت پسند گروہ قرار دیا جو دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگست 2021 میں کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سیکیورٹی صورتحال میں تبدیلی آئی، جس سے بعض گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے اور سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اس مسئلے کو دوطرفہ سطح پر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت مختلف عالمی فورمز پر اجاگر کیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان متعدد دہشت گرد عناصر کو پہلے ہی غیر مؤثر بنا چکا ہے اور ان گروہوں کے سہولت کاروں سے بھی آگاہ ہے۔ انہوں نے افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید اسلحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان مختلف گروہوں کے ہاتھ لگ چکا ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

معاشی بحالی اور عالمی کردار
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کیے گئے معاشی اصلاحاتی اقدامات، جن میں آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق اصلاحات بھی شامل ہیں، کے نتیجے میں پاکستان کے معاشی اشاریے بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق چین سی پیک کے ذریعے پاکستان میں گہری شمولیت رکھتا ہے، سعودی عرب بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ اور امریکا کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

غزہ اور عالمی امور
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی حمایت کی اور اس کے نفاذ کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی منظوری میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیر نو اور بالآخر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا کوئی متبادل موجود نہیں اور بیشتر رکن ممالک کثیرالجہتی نظام پر اعتماد رکھتے ہیں۔ تاہم ادارے کو مزید مؤثر اور جواب دہ بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کو درپیش مالی مسائل کی بڑی وجہ رکن ممالک کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی ہے۔