اسکائی نیوز کی صحافی یلدا حکیم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قاسم خان اور سلیمان خان  کا کہنا تھا کہ ماضی میں پاکستان آنے سے متعلق خدشات موجود تھے،مگر وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے بعد انہوں نے کھل کر پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ہے اور ویزا درخواستیں جمع کرا دی گئی ہیں۔

انٹرویو میں قاسم خان نے کہا کہ ان کے والد سیاست کو زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اس لیے کسی ڈیل یا مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، موجودہ صورتحال میں واحد مؤثر راستہ بین الاقوامی دباؤ ہے تاکہ حالات بہتر بنائے جا سکیں۔

قاسم خان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں، کھانے کا معیار ناقص ہے اور انہیں اپنے ذاتی معالج تک رسائی حاصل نہیں۔

سلیمان خان کا کہنا تھا کہ جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے وہاں روشنی ناکافی ہے، بجلی کی بندش رہتی ہے اور یہ حالات بین الاقوامی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔

واضح رہے کہ عمران خان گزشتہ دو برس سے مختلف مقدمات میں قید ہیں، جب کہ ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی کی جانب سے جیل میں سہولیات اور ملاقاتوں میں رکاوٹوں پر مسلسل اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک خصوصی نمائندہ بھی عمران خان کی قید کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔