ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں افغان طالبان کی نمائندگی وزیرِ دفاع ملا یعقوب کریں گے، جبکہ پاکستان کی جانب سے سینئر سیکیورٹی حکام شرکت کریں گے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے سفری اجازت نہ ملنے کے باعث طالبان حکومت نے اپنے وفد میں تبدیلی کر دی ہے۔
اس سے قبل پاکستان نے 15 اکتوبر کو افغان طالبان کی درخواست پر اگلے 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق جنگ بندی شام 6 بجے سے نافذ ہوئی تھی اور دونوں ممالک نے اس دوران مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ افغان فورسز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں، بشرطیکہ کوئی اشتعال انگیزی نہ کی جائے۔
گزشتہ دنوں ہونے والی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی، جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے مؤثر کارروائی کی۔ کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان حکام نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ عسکری گروہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔ 14 اکتوبر کو پاک-افغان سرحد پر کرم کے علاقے میں دوبارہ بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس کا پاکستانی فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔
15 اکتوبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں چار مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں 15 سے 20 طالبان جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
اسی روز پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور دارالحکومت کابل میں طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ تمام اہداف شہری آبادی سے دور چنے گئے تھے۔ ان کارروائیوں کے بعد افغان طالبان کی جانب سے سیز فائر کی درخواست کی گئی، جسے پاکستان نے قبول کر لیا۔







