ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے قیدیوں اور جوہری تنصیبات کی فہرستیں انڈین ہائی کمشنر کے حوالے کیں، جب کہ انڈین وزارت خارجہ نے اپنی فہرست پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کی۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ تبادلہ سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان 31 دسمبر 1988 کو دستخط ہونے والے معاہدے کے تحت یکم جنوری کو فہرستوں کا تبادلہ لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت اور خودمختاری کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور یمن کے معاملے کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور مرحومہ کے اہل خانہ سے تعزیت کی، جب کہ بنگلادیش کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے بھی ملاقات ہوئی۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو الگ ملک تسلیم کرنے کے اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے اور صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر او آئی سی اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اعلامیہ بھی جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، ولی عہد محمد بن سلمان کا پاکستان کے دورے کا اظہارِ خیال
ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر اور ازبکستان کے وزیر خارجہ نے ٹیلیفون کیا، جہاں دونوں ممالک کے تعلقات اور ازبکستان کے صدر کے پاکستان دورے پر بات ہوئی۔ صومالیہ کے وزیر خارجہ نے بھی فون کرکے پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین کا دورہ کریں گے اور پاک چین وزارت خارجہ کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے۔
افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کے بعد پاکستانی سفارت خانہ شہریوں کے رابطے میں ہے، جب کہ کابل میں طالبان حکام سے بھی رابطہ قائم رکھا گیا ہے۔ اب تک 1100 سے زائد پاکستانی شہریوں نے کابل میں سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔







