’بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات‘ کے موضوع پر اسلام آباد میں منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات ’غیر دوستانہ ملک‘ سے ’قابلِ اعتماد دوست‘ تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط نے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جبکہ تجارت، توانائی، صنعت، تعلیم اور سائنس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان اور روس ایک زیادہ منصفانہ اور کثیر القطبی عالمی نظام کے حامی ہیں۔ پاکستان گلوبل ساؤتھ کے ساتھ مؤثر روابط اور جامع بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کا خواہش مند ہے اور گوادر بندرگاہ کو اس اہم تجارتی راہداری سے جوڑنے کی تجویز انتہائی خوش آئند پیشرفت ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے، جبکہ دونوں ممالک ادائیگیوں کے نظام اور دیگر تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے بھی فعال مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس پاکستان ری ایڈمیشن معاہدے سے ویزا سہولتوں، کاروباری روابط اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ ملے گا، جبکہ پاکستان روس میں منعقد ہونے والے اہم اقتصادی اور بین الاقوامی فورمز میں باقاعدگی سے شرکت کر رہا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے پاکستان کو اہم عالمی شراکت دار قرار دینا دونوں ممالک کے تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر ہے۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل سے لبنانی آرمی چیف کی ملاقات؛ پاکستان آرمی لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان مضبوط ہوتے روابط نہ صرف دوطرفہ مفادات بلکہ وسیع تر یوریشیائی تعاون، علاقائی استحکام اور اقتصادی انضمام کے لیے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان باہمی احترام، خودمختار برابری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی عالمی نظام کا حامی ہے اور روس کے ساتھ مل کر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔







