ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ مسلسل کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ گفتگو کے دوران چین اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ 5 نکاتی امن منصوبہ بھی زیر غور آیا، جسے خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے میں فوری سیز فائر، فریقین کے درمیان بامقصد مذاکرات، شہری آبادی اور اہم تجارتی و توانائی انفراسٹرکچر کا تحفظ، بحری گزرگاہوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پاسداری جیسے نکات شامل ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس منصوبے کو خطے کے کئی ممالک کی جانب سے سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے حالیہ دنوں میں ترکیہ اور مصر سمیت اہم علاقائی ممالک کے ساتھ کثیرالجہتی مذاکرات کی میزبانی کی، جس کا مقصد بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔
مزید پڑھیں: کیا ثالث امریکا کی ضمانتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں ایرانی سفیر کا سوال
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو “امن کے لیے پل” کا کردار ادا کرنے والا ملک قرار دیتے ہوئے خطے میں مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا تھا۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسے روابط اور مشترکہ تجاویز خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔







