عالمی یومِ برداشت کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر نے کہا کہ موجودہ دور میں جہاں دنیا پہلے سے زیادہ باہم جڑی ہوئی ہے، وہاں مکالمہ، ہمدردی اور تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر نے کہا کہ برداشت اور رواداری اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہیں جو انسانیت کے لیے رحم، عدل اور احترام کا درس دیتی ہیں۔

انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اس وژن کو یاد کیا جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ باہمی احترام کے تحت زندگی گزار سکیں۔ اس وژن کا تسلسل برقرار رکھنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔

صدر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق نے ہر انسان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا ہے اور اسی روشنی میں دنیا بھر کے قوانین تشکیل پائے۔ پاکستان کے آئین میں بھی ہر شہری کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سماجی یا مذہبی استحصال کے خاتمے کو اپنی پالیسیوں کا محور بنا رکھا ہے، اور بین المذاہب ہم آہنگی و مذہبی رواداری کی منظور شدہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ پارلیمان کی جانب سے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس بل 2025 کی منظوری اور سینیٹ میں منارٹیز کاکس کے قیام کو انہوں نے اہم سنگ میل قرار دیا۔

صدر نے تمام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعصب، امتیاز اور نفرت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انہوں نے علمائے کرام، اقلیتی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ محبت، رواداری، بھائی چارے اور اتحاد کے پیغام کو عام کریں تاکہ پاکستان سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کا حقیقی نمونہ بن سکے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے شہریوں کو برداشت، شفقت اور انسانیت کی اقدار مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ملک کو پُرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن کرے۔