یہ بات انہوں نے پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی “سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور اب آسمانوں کو چھو رہی ہے” اور یہ تعلق اب محض سفارتی نہیں بلکہ عملی معاشی شراکت داری میں تبدیل ہو رہا ہے۔

انہوں نے ہانگژو کو ایک جدید اور ترقی یافتہ شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی چینی قیادت خصوصاً صدر شی جن پنگ کے وژن کا نتیجہ ہے، جنہوں نے چین کو عالمی اقتصادی اور سائنسی طاقت بنایا۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدوں میں تقریباً 30 فیصد مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) عملی معاہدوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو آئی ٹی ٹریننگ اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں، جبکہ تعاون کے اہم شعبوں میں زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور اکنامک زونز شامل ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت دے رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو قرضوں کے بجائے مہارت، ٹیکنالوجی اور براہِ راست سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

زراعت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید بیج، مشینری اور عالمی معیار کے طریقے اپنانے ہوں گے جبکہ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ اکنامک زونز میں ون ونڈو آپریشن اور سرمایہ کاروں کے لیے ریڈ کارپٹ پالیسی اپنائی جائے گی، جبکہ کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جا رہا ہے۔