وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج روزانہ کی بنیاد پر کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بالآخر سرخرو ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لڑاکا طیارے قومی سلامتی اور دفاعی تیاریوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور جدید جنگ میں انہیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کئی ممالک پاکستان کے ساتھ لڑاکا طیاروں کی خریداری اور آپریشنل تعاون پر مذاکرات کر رہے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی فضائی طاقت کا یہ اعتراف بین الاقوامی میڈیا میں بھی سامنے آ رہا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیت اور فضائی برتری کا ذکر کرتے ہوئے JF-17 تھنڈر کے تیزی سے اُبھرتے ہوئے عالمی پروفائل کو نمایاں کیا ہے۔

پاکستان اور چین کے اشتراک سے بنایا جانے والا JF-17 تھنڈر دنیا کی مختلف فضائی افواج میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش، عراق، انڈونیشیا اور لیبیا نے اس میں دل چسپی ظاہر کی ہے، جب کہ بعض ممالک اس حوالے سے خریداری کے معاہدوں کو حتمی شکل دے چکے ہیں یا دینے کے قریب ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں عراقی فضائیہ کی جانب سے JF-17 کے حصول میں اضافی دلچسپی نے اس پیش رفت کو مزید تقویت دی ہے۔

پاکستان کے دورے کے دوران بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ نے بھی JF-17 بلاک تھری کے مختلف ماڈلز میں خصوصی دل چسپی کا اظہار کیا۔ فی الحال یہ طیارہ آذربائیجان، نائیجیریا اور میانمار کی فضائی افواج کی سروس میں ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف 17 کی سب سے بڑی خوبی اس کی لاگت میں مؤثر ہونے کی صلاحیت ہے۔ جب کہ رافیل، گریپن، یورو فائٹر ٹائیفون اور چین کے J-10 جیسے لڑاکا طیاروں کی قیمت 80 سے 107 ملین ڈالر تک ہے، JF-17 تقریباً 25 ملین ڈالر میں دستیاب ہے۔ یہی کم قیمت اور مضبوط کارکردگی اسے ان ممالک کے لیے پرکشش بناتی ہے جو بھاری مالی بوجھ کے بغیر قابلِ اعتماد فضائی قوت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

JF-17 نے مختلف عسکری مقابلوں میں اپنی آپریشنل کارکردگی سے بھی خود کو منوایا ہے، جہاں اس نے زیادہ مہنگے طیاروں کے مقابلے میں قابلِ ذکر اہلیت کا مظاہرہ کیا۔ یہ کارکردگی اس کی شہرت کو ایک عملی، مؤثر اور قابلِ اعتماد لڑاکا طیارے کے طور پر مزید مضبوط بناتی ہے۔

تکنیکی اعتبار سے JF-17 ایک جدید ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے جو ہوا سے ہوا، ہوا سے زمین اور بحری اہداف پر حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی تیاری میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کا 58 فیصد اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن کا 42 فیصد حصہ شامل ہے۔ یہ طیارہ جدید نگرانی، سینسرز اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز سے لیس ہے اور ہر طرح کے موسمی حالات میں مؤثر انداز میں آپریشن کی صلاحیت رکھتا ہے۔

JF-17 بلاک تھری کو 4.5 جنریشن فائٹر طیارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں نصب جدید AESA ریڈار طویل فاصلے پر متعدد اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے، جب کہ بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل سسٹم اسے فضائی جنگ میں نمایاں برتری فراہم کرتا ہے۔