لندن میں منعقدہ ورلڈ ایجوکیشن فورم میں شرکت کے بعد نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان نسل میں آگے بڑھنے کا جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے اور وہ ٹیکنالوجی، سائنس اور جدید تعلیم کے ذریعے ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور قیادت کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ملالہ کا کہنا تھا کہ تعلیم صرف ذاتی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ معاشروں میں استحکام، امن اور معاشی بہتری کی بنیاد بھی بنتی ہے۔

ورلڈ ایجوکیشن فورم سے خطاب کے دوران ملالہ یوسفزئی نے فلسطین، لبنان اور افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو درپیش مشکلات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں اور سیاسی بحرانوں سے متاثرہ خطوں میں سب سے زیادہ نقصان بچوں اور خصوصاً طالبات کی تعلیم کو پہنچتا ہے۔

ملالہ نے کہا کہ فلسطینی طالبات نہ صرف اپنے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں بلکہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے بھی آواز بلند کر رہی ہیں،  عالمی برادری کو ایسے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کے تحفظ کے لیے مزید عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ افغان لڑکیاں سخت پابندیوں کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے لیے خفیہ طور پر کوششیں کر رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علم حاصل کرنے کا جذبہ کسی بھی رکاوٹ سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: امیر جماعتِ اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع

اپنی گفتگو کے اختتام پر ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے انتہائی پُرامید ہیں کیونکہ ملک کے نوجوان مثبت سوچ اور جدید مہارتوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہی نوجوان آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ملالہ یوسفزئی نے فورم کے دوران مختلف ممالک سے آئے طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی گول میز اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں نوجوانوں نے تعلیم، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلی اور سماجی ترقی سے متعلق سوالات کیے۔ ملالہ نے طلبہ کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو کی اور ایک تعلیمی کوئز مقابلے میں بھی حصہ لیا۔

کانفرنس میں پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے تعلیم سمیت مختلف ممالک کے تعلیمی ماہرین، پالیسی سازوں اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ شرکا نے تعلیم کے فروغ، ڈیجیٹل لرننگ اور لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔