نوشہرہ ورکاں میں کسان بچاؤ روڈ کارواں کے دوسرے روز اختتامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ ہونے اور اب جعلی بلدیاتی نظام متعارف کرائے جانے پر تشویش ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ زراعت کی شرح نمو ایک سال کے دروان چھ اعشاریہ پانچ فیصد سے کم ہو کرصرف ایک فیصد رہ گئی اور حکمران بتائیں یہ کونسی ترقی ہے جب ساٹھ فیصد آبادی کی آمدنی کئی گنا کم ہو گئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے عوام اور کسانوں کو خبردار کیا کہ مسلط حکمران انہیں حقوق نہیں دیں گے، بلکہ حق خود چھیننا پڑے گا۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ “بدل دو نظام کو“ تحریک کا حصہ بنیں اور اجتماع عام میں شرکت کریں۔
انہوں نے جاگیرداروں کے زمینوں پر تنقید کی کہ یہ زمینیں انگریزوں نے ان کو عطا کیں، جب کہ یہ محض تین فیصد لوگ ہیں۔ تعلیمی نظام کو مہنگا اور استحصالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گندم کی امدادی قیمت فی من 4500 روپے مقرر کی جائے، جب کہ حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی فی من 3500 روپے کی امدادی قیمت کو جماعت اسلامی نے مسترد کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ کسانوں سے گندم خریدنا اور عوام کو سستا آٹا فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت بہتر ہو اور سمت درست ہو تو عوامی طاقت سے بڑے بڑے طاقتور بت گر جاتے ہیں۔
انہوں نے عدالتی نظام کی خرابی پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ملک میں عدالتی نظام مفلوج ہو گیا ہے اور ججز فروخت ہوتے ہیں۔ اقتدار میں آنے پر جماعت اسلامی زرعی اصلاحات کے ساتھ عدالتی اصلاحات بھی متعارف کرائے گی۔
آخر میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر کسان بچے گا تو ملک آگے بڑھے گا۔







