وزیرِاعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے اُن تمام شخصیات، سائنسدانوں، سیاستدانوں اور اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا اور ملک کو جوہری قوت بننے کے قابل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کے حصول میں تمام حکومتوں نے کردار ادا کیا، جب کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت دفاعی مقاصد کے لیے ہے، جارحیت کے لیے نہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو تھے، تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسے منطقی انجام تک پہنچایا اور ایٹمی دھماکے کیے۔
انہوں نے کہا کہ 28 مئی کا دن تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جب پاکستان ایک جوہری طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرا اور ملک کو ایسا دفاعی تحفظ حاصل ہوا جو ہمیشہ قومی سلامتی کا اہم اثاثہ رہے گا۔
وزیراعظم نے معرکۂ حق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 10 مئی کو اس کی پہلی سالگرہ شایانِ شان انداز میں منائی گئی۔ یہ تاریخی کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل، قومی اتحاد اور یکجہتی کے باعث حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بہادری اور جرات کے ساتھ دشمن کو ایسا سبق سکھایا جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بے مثال اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے معاشی بہتری کے لیے گزشتہ دو برسوں میں کابینہ اراکین کی ٹیم ورک کو بھی سراہا۔
اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ہاؤسنگ سیکٹر اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہوں نے بڑھتی آبادی کے باعث رہائش کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری اور منظم اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے نے ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات کو قومی ضرورت بنا دیا ہے، جب کہ کم آمدنی والے طبقے کو سستی رہائش کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سستے ہاؤسنگ منصوبوں، نجی شعبے کی شمولیت اور شہری سہولیات کی بہتری پر توجہ دے رہی ہے، جب کہ بہتر اربن پلاننگ بھی حکومتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: کم آمدن والے طبقے کو سستے گھر فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، شہباز شریف
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے تمام مراحل کو ڈیجیٹلائز اور خودکار بنایا جائے تاکہ شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے سرمایہ کاری بڑھانے اور گورننس بہتر بنانے کے لیے مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈویلپرز کی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں لازمی رجسٹریشن، ون ونڈو سسٹم کے قیام، غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ کی روک تھام اور بڑے شہروں کے لیے ماسٹر ٹاؤن پلاننگ فریم ورک پر تجاویز زیر غور ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان تجاویز پر صوبائی حکومتوں کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے تاکہ ان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناءاللہ، طلال چودھری سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔







